اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایف مرے ابراہم نے امریکی نشریاتی ادارے ایم ایس ناؤ (MSNOW) کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کی سیاسی صورت حال میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہے اور جماعتی اختلافات میں الجھی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات بدلنے چاہییں۔ جو کچھ ہورہا ہے وہ واقعی مضحکہ خیز ہے اور درست نہیں۔ ہمارے پاس ایسی کانگریس ہے جو کچھ نہیں کرتی۔ امریکی اداکار نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان ریڈ اسٹیٹس اور بلیو اسٹیٹس کے معاملے پر اختلافات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑنے میں حد سے زیادہ مصروف ہیں۔
ابراہم نے امریکہ کے صحت کے نظام، دولت مندوں کے حق میں ٹیکس نظام اور جنگی اخراجات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مناسب وسائل کیوں مختص نہیں کیے جاتے۔
اداکار نے سیاسی بدعنوانی کو امریکہ کی موجودہ سیاسی صورت حال کی ایک تشویش ناک علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بعض سیاست دانوں کو اب اپنی بدعنوانی بے نقاب ہونے کی بھی کوئی فکر نہیں رہی۔
انہوں نے کانگریس کے ارکان کو حاصل طبی بیمے پر بھی تنقید کی، جبکہ ان کے بقول یہی نمائندے تمام امریکی شہریوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کو مہنگا قرار دیتے ہیں۔
ابراہم نے ارکانِ کانگریس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں، جرات پیدا کرنی چاہیے اور صاف الفاظ میں انکار کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ صرف مستقبل میں منتخب ہونے والے ارکان تک محدود نہیں، بلکہ موجودہ ارکان کو بھی ان باتوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جنہیں وہ غلط سمجھتے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ اور ٹرمپ حکومت پر تنقید
فلم ’’اسکارفیس‘‘ اور ’’دی گرینڈ بڈاپسٹ ہوٹل‘‘ کے اداکار کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اس ملک میں حکومت مخالف احتجاج کے اہم موضوعات میں شامل ہوگئی ہے۔
حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے واضح مقصد بتائے اور کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر امریکہ کو ایک مہنگی جنگ میں جھونک دیا۔ رپورٹوں کے مطابق، جنگ کے ابتدائی مہینوں میں اس کے اخراجات ایک ارب ڈالر یومیہ سے بھی زیادہ بتائے گئے ہیں۔
اسی دوران، میڈیکیڈ (Medicaid) صحت پروگرام کے بجٹ میں کمی اور علاج معالجے کے اخراجات میں اضافے نے حکومت اور ریپبلکن جماعت کی ترجیحات پر تنقید کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ابراہم نے اپنے انٹرویو میں اسی تضاد کی جانب اشارہ کیا کہ جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں، لیکن تمام شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنا مہنگا قرار دیا جاتا ہے۔
ایف مرے ابراہم نے 1984ء کی فلم ’’امادیئس‘‘ میں بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔ انہوں نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ امریکہ موجودہ صورت حال سے نکل آئے گا۔
انہوں نے امریکی شہریوں کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اٹھیں اور ووٹ دیں۔
’’نو کنگز‘‘ احتجاجی تحریک
ابراہم کے یہ بیانات ملک گیر ’’نو کنگز‘‘ (No Kings) احتجاجی مظاہروں کے دوران سامنے آئے۔ اس تحریک کے منتظمین ٹرمپ کے اقدامات کو جمہوری طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد سے اس تحریک کے تحت کئی مرتبہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے جاچکے ہیں۔
امریکہ کے فنکاروں کی جانب سے ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی یہ لہر کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آئی ہے، جو 3 نومبر 2026ء کو منعقد ہوں گے۔
رابرٹ ڈی نیرو اور مارک رافالو نے بھی اکتوبر کے آغاز میں نیویارک میں ’’ہمارے ووٹ سے دور رہو‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اجتماع میں امریکی شہریوں کے حقِ رائے دہی کو محدود کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کی مذمت کی تھی۔
مظاہرین کی اہم تشویشات میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے اور انتخابی قواعد میں تبدیلی کے لیے حکومت کی کوششیں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا، بلکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل کرسکتے ہیں اور ٹرمپ حکومت کی اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ